Thursday, March 14, 2019

غزل: ہجر نے جتنے سکھائے تھے قرینے مجھ کو

غزل


ہجر نے جتنے سکھائے تھے قرینے مجھ کو
وصل میں بھول گئے سارے کے سارے مجھ کو

صورتِ عکس لرز جائے گا وہ پانی میں
اس سے کہہ دو مری آنکھوں سے نہ دیکھے مجھ کو

ابر گیسو کی جھلک آئی نظر سپنے میں
آئے پھر دیر تلک نیند کے جھونکے مجھ کو

کان بجتے ہیں بھرے شہر کے سناٹے میں
اس خرابے میں کوئی ہے جو پکارے مجھ کو

جل گئی روح بھی جب آگ چناروں میں لگی
وقت نے ایسے مناظر بھی دکھائے مجھ کو

شہر والو کوئی مجھ جیسا بھی تنہا ہو گا
اپنے آسیؔ سے کہو، اپنا بنا لے مجھ کو​

۔  ۳۔دسمبر ۲۰۰۹ ء​

غزل ۔۔۔ ککھاں دے

غزل

سنگی یار نیں ککھاں دے
سب سنسار نیں ککھاں دے

پَکّے کوٹھے کیہ جانن
جنگل بار نیں ککھاں دے

چِنگاں، واء ورولے، مینہ
کِنّے یار نیں ککھاں دے

آپ وی چِٹّے ہو جاندے
ڈاہڈے بھار نیں ککھاں دے

ساتھوں بھارا ہووے کون!
ککھ وِچار نیں ککھاں دے

بُلّیاں پِچّھے اُڈ پیندے
نویں وِہار نیں ککھاں دے

وَٹّا نہ بَن! ڈُبّیں گا
بیڑے پار نیں ککھاں دے

ساڈیاں نِگّھاں کھوری نال
۔”ککھ ای یار نیں ککھاں دے“۔


ہفتہ ۱۹ جنوری ۲۰۱۹ء

Saturday, September 1, 2018

اردو: ابیات و قطعات



ابیات و قطعات
اردو

O
پھر دلِ درد گزیدہ نے صدا دی مجھ کو
سانس نے تیز مگر سرد ہوا دی مجھ کو
دُودِ بغداد کو مِدرار نہ سمجھو، زِنہار
شہرِ کم گوش میں کرنی ہے منادی مجھ کو
۔۵۔جون ۲۰۱۰ء

O
بجا، کہ چاند چھپ گیا، تو چاندنی چلی گئی
ہے اپنی شب کمال کی، کہ پھیلتی چلی گئی
چلو فراق ہی سہی، گئے وہ دن وصال کے
پہ نیند کو یہ کیا ہوا، کہ نیند ہی چلی گئی
طبیب! تو نے بھولپن میں نام کس کا لے دیا
کہ نبضِ کُشتہء فراق ڈوبتی چلی گئی
۔۲۔اگست ۲۰۱۵ء

O
اُس کی یادوں سے مفر ڈھونڈا کتابوں میں مگر
اُس کا چہرہ نقطہ و خط میں نمایاں ہو گیا
۔۱۷۔اکتوبر ۲۰۱۵ء

O
اپنے احساس کی شدت ہی پہ موقوف نہیں
سرد مِہری بھی جلاتی ہے بہت یاروں کی
۔یکم ستمبر ۲۰۱۵ء

O
یہاں پہ سر بہ گریباں ہے ناطقہ اے ہوش
کہ یہ دیارِ ادب٭ ہے، بلند بانگ نہ بن
٭حرمَین شریفَین
۔۲۔ستمبر ۲۰۱۵ء

O
مرے سوال کو تو بھی سوال سمجھا ہے
مرے جواب تلک تیری بھی نگہ نہ گئی
۔۱۹۔مارچ ۲۰۱۶ء 

O
خواب ویران ہو گئے پھر سے
کیا پھر اک درد کی ضرورت ہے؟
شبِ فرقت بھی مختصر ٹھہری 
ہاں! تری یاد کی عنایت ہے
۔۱۱۔مارچ ۲۰۱۶ء

O
لفظ جو بھی دعا کے ہیں، سو ہیں!۔
درد رِستا ہے ماں کے لہجے سے
۔۱۶۔اپریل ۲۰۱۶ء

O
راہِ ویراں پہ کھڑے سوچتے ہیں
کبھی پُرشور و رواں تھے ہم بھی
اپنے بچپن میں کبھی ایسا تھا
ساکنِ کوئے اماں تھے ہم بھی
ہم سدا سے کفِ دریا تو نہیں
غیرتِ کوہ گراں تھے ہم بھی
۔۱۵۔اپریل ۲۰۱۶ء

O
اپنی اپنی ذات کے زنداں میں ہر اک محبوس
اک میں قیدی، دوجا تو ہے، تیجا شہر تمام
اندر مردہ خالی خولی ظاہر میں مضبوط
دھیرے دھیرے کھا جاتے ہیں دیمک سے اوہام
۔۲۸۔مئی ۲۰۱۶ء

O
کہتا تھا قلمبند کروں گا ترے نالے
وہ شخص مگر بیٹھ رہا کر کے قلم بند
اک محرمِ حالات نے کچھ عرض کیا تو
بولا کہ یہ اظہار تو ہے فرش سے پیوند
اپنوں سے شکایات نہیں ٹھیک مری جاں
یعقوب کو سمجھائے کوئی مردِ خرد مند
۔۲۹۔مئی ۲۰۱۶ء

O
زمین والوں نے اتنا لہو بہایا ہے
کہ روئے بدر بھی سرخی میں ڈوب ڈوب گیا
مرا جو خواب کسی صبحِ نو کی کھوج میں تھا
وہ تیری سرمگیں آنکھوں میں جا کے ڈوب گیا
کڑے سفر کی شکایت کسی نے کی تو تھی 
لہو لہو ہے شفق، اس میں کون ڈوب گیا
۔۹۔ستمبر ۲۰۱۶ء

O
چلے بھی جاؤ! نئے درد کو بھی سہہ لیں گے
تکلفات سے اب کے تو دل بھی اوب گیا
۔۹۔ستمبر ۲۰۱۶ء

O
غیضِ یاراں خوش آمدید مگر
معذرت بے سبب نہیں ہوتی
دمِ خلوت لبوں پہ موجِ بسام
پہلے ہوتی تھی، اب نہیں ہوتی
۔۳۔ نومبر ۲۰۱۶ء

O
بڑا لمبا سفر ہے، کچھ تھکاوٹ ہو رہی ہے
ذرا آرام کر لیں، پھر نہا دھو کر چلیں گے
۔۲۴۔نومبر ۲۰۱۶ء

O
نہیں کہ میرا یہاں ہم زباں نہیں کوئی
شریکِ حزن و ملالِ نہاں نہیں کوئی
۔۱۰۔جنوری ۲۰۱۷ء

O
پھر وہی شہر وہی لوگ وہی پتھر ہیں
پھر وہی تلخ نوائی جو مرا حصہ ہے
۔۱۴۔فروری ۲۰۱۷ء

O
سکھا دیں گے سبھی گُر دوستی کے
ہمارا نام لکھ لو دشمنوں میں
۔۲۷۔فروری ۲۰۱۷ء

O
تا، ہو کچھ سرخی لہو میں، حدتِ احساس کی
قہقہوں کے کھوکھلے جثے میں آہیں ڈال دیں
خد و خالِ وقت کے کچھ رنگ تھے اس سے نہاں
اس کی بینائی میں ہم نے اپنی آنکھیں ڈال دیں
شدتِ جذبات میں الفاظ ہکلانے لگے
اس نے میرا نام لکھ کر چار ڈیشیں ڈال دِیں
۔۱۲۔مئی ۲۰۱۷ء

O
پکارو، گر مجھے تو، پہلے دل پر ہاتھ رکھ لینا
کنویں کے قلب سے آواز بھی آتی ہے نم ہو کر
ذرا ٹھہرو! نہا دھو کر بدل ہی لو یہ کپڑے بھی
سفر درپیش ہے لمبا، چلیں گے تازہ دم ہو کر
۔۲۳۔مئی ۲۰۱۷ء

O
یہ بتا، کس کا گلا کاٹ کے خوش بیٹھا ہے؟
تیرے اندر وہ جو وحشی ہے ابھی زندہ ہے
۔۲۔ستمبر ۲۰۱۷ء

O
اٹھی وہ نظر، تو ایسا لگا، کہ دل بھی گیا، نظر بھی گئی
پھری وہ نظر، تو یوں کہ بس اب، نظر تو گئی، خبر بھی گئی
۔۵۔اگست ۲۰۱۸ء

O
معذرت خواہ بے گناہی پر
ہم سا مجبور کوئی کیا ہو گا
۔۵۔جون ۲۰۱۸ء

O
دِل بھر آتا ہے تو گویا حرف زباں سے جڑ جاتے ہیں
بات کریں تو پگلی آنکھیں سارے لفظ بھگو دیتی ہیں
۔۲۸۔جون ۲۰۱۸ء

O
اک سنگِ گراں جانبِ پستی ہے روانہ
اک مرغِ سبک جاں ہے بلندی کو پراَفشاں
۔۵۔ستمبر ۲۰۱۸ء

O
فغاں جہاں سے بھی اٹھتی ہو، اُس پہ کیا موقوف
یہاں سماعتیں بیگانہ ہوتی جاتی ہیں
۔۲۰۔نومبر ۲۰۱۸ء

O
صدا پلٹ کے خیاباں سے اب نہیں آتی
پکار کر سرِ صحرا بھی دیکھتے چلئے
۔۲۰۔نومبر ۲۰۱۸ء

O
یخ بستگی نے آگ سی بھر دی وجود میں
یوں مل گیا جواب، مرے سرد مِہر کو
۔۲۶۔دسمبر ۲۰۱۸ء

O
اے جنوں! لکھ لے مجھے اپنے پشیمانوں میں
اب مرا نام بھی آنے لگا فرزانوں میں
عصرِ حاضر کے فقیہوں سے کوئی پوچھے تو!
کیا لئے پھرتے ہیں زربفت کے جزدانوں میں
۔۶۔دسمبر ۲۰۱۸ء

O
تمہارے سرد لہجے نے سماعت منجمد کر دی
چلو اچھا ہوا، ورنہ رگوں میں خون جم جاتا
۔۲۶۔دسمبر ۲۰۱۸ء

O
ابھی، گر ہو سکے، کچھ کام کر لو
ابھی اک عمر مرنے کو پڑی ہے
۔ ۲۹۔دسمبر ۲۰۱۸ء

O
مہربانوں کے بدلتے ہوئے لہجے! توبہ!
ایسا لگتا ہے میں ہر بات غلط کرتا ہوں
۔۹۔جنوری ۲۰۱۹ء

O
وہ خوں بہا نہیں تھا، وہ مٹی کا مول تھا
مادر فروش، حرص کے پتلے کا بول تھا
۔۲۲۔جنوری ۲۰۱۹ء

O
زلف کا ابر ہے اک برقِ نہاں کا غمّاز
سات پردوں میں بھی ہو، حسن کہاں چھپتا ہے
۔۷۔فروری ۲۰۱۹ء

O
مت بھول، تیرے حسن کا پندار مجھ سے ہے
گر یوں نہیں  تو کہہ دے کہ بیزار مجھ سے ہے
اے غزلِ تارِ خستۂ پنبہ! چلو ہٹو
سب جانتے ہیں، رونقِ بازار مجھ سے ہے
یہ طرزِ امتیاز بہت جاں نواز ہے
اقرار ہے ہر ایک سے، انکار مجھ سے ہے
۔یکم اگست ۲۰۱۸ء



Monday, January 8, 2018

نارٹن کی یاد میں (شگفتہ شگفتہ)۔


نارٹن کی یاد میں

محمد یعقوب آسیؔ


نارٹن کی یاد میں

اِک جہانِ اساتذہ ہے یہ
فیس بک کو حقیر مت جانو

یاہو یاہو کردی نی میں آپے یاہو ہوئی
یاہو میرا نام چتارو، گوگل کہو نہ کوئی

ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی بات چھوڑیئے بابا
آج کے زمانے میں یو ٹیوب چلتی ہے

فکر ہے کس بات کی سب کچھ زبانی ہے یہاں
فیس بک پر کوئی کس کی بات مانے گا، میاں!

فی البدیہہ کلام پر اپنے
کوئی چھِڑتا ہے کوئی چِڑتا ہے
پوچھئے مت کتاب چہروں٭ کی
ہر کوئی ہر کسی سے بھِڑتا ہے
٭ فیس بک

ڈاکٹر حیران ہے، اس کی دوائی کیا لکھے
ڈیلی موشن کا یہ اس کے پاس دسواں کیس ہے

اب بھلا کس طور حضرت، سب کو سبسکرائبیں
چینلوں، چمگادڑوں کا گڑھ بنا ہے یو ٹیوب

آنت شیطان کی؟ اجی چھوڑیں!۔
اس سے لمبی ہے یو ٹیوب، جناب

اِس قدر ہم نے اُسے ڈھیٹ کیا
آخرش اُس نے ہی ڈیلیٹ کیا

ہم نے جانا پر ایک مدت بعد
اُن کی بائیوس ہی میں گڑبڑ ہے

کوئی بَیڈو کو ڈھونڈ کر لائے
آ گھسا ہے یہاں ٹروجن ٹُو
بیڈو: انٹی وائرس، ۔۔ ٹروجن 2 : وائرس

زیرو ٹریک بیڈ تو قصہ ہوا تمام
یہ کیسی ہارڈ ڈکس تھی، اک پل میں اُڑ گئی

کہا تھا فائلیں رکھو سکائی ڈرائیو میں
کیا کلاؤڈ پہ تکیہ تو اُڑ گیا سب کچھ

اس بات کو عرصہ بیت چکا جب ایک فلاپی ہوتی تھی
اب آپی دھاپا ہوتا ہے، تب آپا دھاپی ہوتی تھی

کور ٹو ڈو کا نہیں رعب چلے گا ہم پر
ہم نے پی وَن بھی چلایا ہے میاں! یاد رہے

ہم کو یہ بات مانتے ہی بنی
آپ کا تیز ہے پراسیسر

کبھی اے ٹی سنا تم نے؟ سنا ہے ایکس ٹی کا بھی؟۔
روایت کی خبر ہے؟ ہیکسیئم کی بات کرتے ہو؟۔

ہم نے ذروں کو بھی چنا تھا کبھی
۔16 کے بی کی رَیم ہوتی تھی
کاٹنے کو جو دوڑتے ہو اب
ٹیرا بائٹ میں بھی نہیں بنتی؟

آپ کی ہم سے تو اب بنتی نہیں
آئی ایس پی ڈھونڈ لیجے کوئی اور

شمعِ محفل ہے ملیسا٭ جا بجا
نارٹن٭ تو مر گیا مدت ہوئی
٭ملیسا: وائرس، نارٹن: اینٹی وائرس

جب سے اپنی دوستی علامہ گوگل سے ہوئی
ایسی اپنی دھاک بیٹھی ہے کہ اٹھتی ہی نہیں

اب تری وِنڈو کھلے یا بند ہو
اس کی کچھ پروا کوئی کرتا نہیں

اینڈرائڈ آ گیا ایپل کے ساتھ
میں بھی یاہو چَیٹ کا رسیا نہیں

درجن بھر تصویریں لو
ایک اِک کو پھر کرو فلِپ
کچھ کو ہوری زنٹل میں
کچھ کو ورٹیکل میں بھی
پھر ان سب کو کر لو زِپ
لیکن، اتنا دھیان رہے
ہلے نہ ہرگز رَیم کی چِپ

فائدہ تو بڑا فلیش میں ہے
جانے کیا کچھ سمیٹ لیتا ہے

اتنی یادیں بسی ہوں گر دل میں
دُور سے سر فلیش دیتا ہے

فار شیئر میں کتنی فائلیں گم کر کے
یار چلے ہیں گرتا ڈبہ ٭ بھرنے کو
۔٭ڈراپ باکس

کوئی یاہو پہ دھکے کھاتا تھا
کوئی گوگل پہ ٹاک کرتا تھا

وقت نے پر لگا دئے سب کو
اب ”سکائی پہ“ اڑتے پھرتے ہیں

بڑھا لو رَیم پھر بھی فائدہ کیا
پراسیسر پرانا ہے تمہارا

ناچتی لگتی تھی ہم کو روشنی
سوچا عینک کا لگائیں کچھ حساب
ڈاکٹر نے بھی نئی تشخیص کی
ہو گئی بیمار وی جی اے جناب

یار لوگوں نے ”خودکُشی“ کا نام
۔رکھ دیا ”کنٹرول آلٹ ڈَیل“۔

۔”لین“ میں تو نہیں ہے کوئی بھی۔
۔”وین“ بھی اب نکل چکی ہو گی۔
LAN, WAN

۔۲۸۔نومبر ۲۰۱۷ء



Wednesday, August 30, 2017

نظم: روحِ یقیں ۔

روحِ یقیں

۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جو کہتا ہے اِسے ایک زمیں کا ٹکڑا
گھر کسے کہتے ہیں، معلوم ہی کب ہے اس کو
اُس کی سوچوں پہ غمِ نانِ جویں حاوی ہے
اُس کا ہر جوش فقط چاہِ بدن میں غرقاب
اپنے بچوں کے پسینے پہ رواں اُس کی حیات
اُس کی آنکھیں ہیں ابھی تیرہ شبی میں محبوس
اور انہیں طارقِ رخشاں کی تمنا ہی نہیں
اُس کے افکار پہ ظلمت کی تنی ہے چادر
ماہِ نخشب کا طلسم اُس کے لئے کافی ہے
کان ہیں اُس کے گرفتارِ زفیرِ دجّال
لحن داؤد سے اُس کو نہیں کوئی سروکار
نغمہء تارِ الست اُس کے لئے نامانوس
اُس کی سانسوں میں کوئی حدتِ جذبات نہیں
اُس کے احساس کی رگ صورتِ میت خاموش
خاکِ ادراک میں اُس کے نہیں اب کوئی کنی
کل کہ وہ خاک تھا، اور آج ہے گویا پتھر
اپنی مٹی کے لئے آپ ہے وہ لوحِ مزار
....
ہاں مگر صورِ سرافیل ابھی باقی ہے
زندگانی کا سفر موت پہ رُکتا ہے کبھی؟
پھر سے پھوٹے گا یہیں چشمہء حیواں اک دن
پھر سے ہر رگ میں لہو عشق سے رنگیں ہو گا
پھر سے ہر سانس میں احساس کی گرمی ہو گی
پھر اذاں پائے گی تاثیرِ نوائے حبشی
ہاں! مگر اس کے لئے کان جگانے ہوں گے
اور طارق کی طرح بیڑے جلانے ہوں گے
طارقِ چرخ سے پھر روشنی لینی ہو گی
عزم کو رسنِ وجودی سے نکلنا ہو گا
بدر میں پھر سے فرشتوں کے پرے اتریں گے
اور ’’اعلون‘‘ کا اعزاز ملے گا پھر سے
پھر بنے گی یہ زمیں عرشِ بریں کا ٹکڑا
ہاں! اُسے جسم نہیں روحِ یقیں چاہئے ہے 
وہ جو کہتا ہے اِسے ایک زمیں کا ٹکڑا
۔۔۔۔۔۔
۔ ۱۴؍ اگست ۲۰۱۷ء۔ 

Sunday, August 27, 2017

ہلالی چُغتائی کے متفرق اشعار ۔ پنجابی میں ترجمہ: از محمد یعقوب آسیؔ

ہلالی چغتائی کے متفرق اشعار
مع پنجابی شعری ترجمہ از محمد یعقوب آسی
۔۔۔۔۔۔

دردی کہ مرا ساختہ رُسوا، ہمہ دانند
داغی کہ مرا ساختہ پنہان، بکہ گویم
ترجمہ
جِس پیڑ نے مینوں بھَنڈیا، جانن لوکی لکھاں
جِس دُکھڑے مینوں پَھنڈیا اے، جا کہنوں دَساں

یارِ ما ہرگز نیازارَد دِلِ اغیار را
گل سراسر آتش است اما نسوزد خار را
ترجمہ
مرا سوہنا سادہ دل سجن، غیراں نوں وی نہ تڑپاوے
جیویں پھل دے مچدے بھانبڑ دا کنڈیاں نوں سیک نہ تاوے

گفتی، بگو کہ بندۂ فرمانِ کیستی؟
ما بندۂ تو ایم، تو سلطانِ کیستی؟
ترجمہ
ایہ میرے توں کیہ پُچھدا ایں، میں کس دے حکم دا بندہ
اسیں سارے تیرے بندے آں، توں جِس تِس دا سلطان ایں

خدای را دِگر ای باد سویِ من مگذر
کہ من بکویِ کسی خاکِ آستان شدہ ام
ترجمہ
تینوں رب دا واسطہ نھیرئیے، نی توں میرے ولّ نہ دھاء
میں بوہے اگے یار دے، سڑ بھُریا آں وانگ سواہ

چہ حاصل گر ہزاران گل دَمَد یا صد بہار آید
مرا چون با تو کار افتادہ است اینہا چہ کار آید
ترجمہ
اساں کیہ لینا ایہناں پھلاں توں، پئے کھِڑَن ہزار بہاریں
سانوں مطلب تیں نال سجنا اوئے، نہیں دوجے ساڈے کاریں

ای کہ می پرسی زِ من کان ماہ را منزل کجاست
منزلِ او در دل است اما ندانم دل کجاست
ترجمہ
اوئے میتھوں پُچھن والیا! کتھے چن میرے دی جاءِ
اوہ میرے دل وچ وَسدا، پر دل دی خبر نہ کاءِ

بحمد اللہ کہ جان بر باد رفت و خاک شد تن ہم
زِ پندِ دوست فارغ گشتم و از طعنِ دشمن ہم
ترجمہ
سو شکر خدا دا مَر موئیا آں، رَل گئی مٹی وچ مِٹّی
ہُن متاں سجن پئے دیون، پئے ویری مارن سِیٹی

۔ ۲۶۔اگست ۲۰۱۷ء