Thursday, March 14, 2019

نظم: بے صدا بستی


بے صدا بستی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ابھی کچھ دیر پہلے تک
مری کٹیا کی رونق تھے
مرے سنگی، مرے ساتھی
مری کُٹیا کی رونق بنتے رہتے ہیں
مرے مہماں، مرے دلدار
آتے ہیں، چلے جاتے ہیں، لیکن
مری تنہائیوں، ویرانیوں کی
بے صدا بستی میں
ان کے قہقہوں کی گونج
ہفتوں تک سنائی دیتی رہتی ہے
میں تنہائی میں بیٹھا مسکراتا ہوں
گئے لمحوں سے ایسے حظ اٹھاتا ہوں
کسی آئندہ لمحے کی
امیدیں تازہ رہتی ہیں
کہ پھر سے رونقیں ہوں گی
اچانک فون آئے گا کوئی
مجھ سے کہے گا
آ رہے ہیں ہم!۔
پھر ان کے قہقہوں کی گونج
ایسے تازہ ہو جاتی ہے جیسے
ایک بزمِ ناز برپا تھی
سبھی آنکھیں فروزاں تھیں
مری خاموش کٹیا میں
ابھی کچھ دیر پہلے تک

۔۲ ۔فروری ۲۰۱۹ء

نظم: قہر



قہر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جانے کیسا قہر مچا ہے!۔
کون بتائے کسے بتائے
کون کسی سے ڈر کے چھپا ہے
کس نے پہنی ہیں زنجیریں
کیوں پہنی ہیں؟
زنداں کی دیواریں کس پر آن پڑی ہیں
کس نے کس کو قتل کیا ہے
کون بتائے! کسے بتائے
سنتا بھی تو کوئی نہیں ہے

۔۹۔جنوری ۲۰۱۹ء

نظم: اور پہیلی کورا کاغذ



اور پہیلی کورا کاغذ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔’’جگ سنسار پہیلی جیسا‘‘۔
اور پہیلی کورا کاغذ
بوجھو! اس پر کیا لکھا ہے
اس پر لکھی ہیں تعبیریں اُن سپنوں کی
ہم نے تم نے جو دیکھے تھے
کالی نیند میں روشن سپنے
جن میں کوئی داغ نہ دھبا
اُن سپنوں کی تعبیریں بھی 
صاف اور سچی
بالکل کورے کاغذ جیسی
یہ ہے کوئی اور ہی عالم
بالکل کورے کاغذ جیسا
کورا کاغذ ایک پہیلی
اور پہیلی کورا کاغذ


۔۲۲۔اکتوبر ۲۰۱۷ء



نظم: چاند کے آنسو




چاندکے آنسو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


یہ چاند ہمارا اپنا ہے
اور اپنے حال سے واقف ہے
ہم اک دوجے کو مارتے ہیں
یہ خون کے آنسو روتا ہے
جانے کس غم کو دھوتا ہے!

۔۱۹۔مارچ ۲۰۱۷ء


نظم: ہوا جب تیز چلتی ہے


ہوا جب تیز چلتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہوا جب تیز چلتی ہے
تو یادوں کے فلک سے
جیسے شبنم سی اترتی ہے
ان آنکھوں میں
نمی سی جھلملاتی ہے
مرے اندر کہیں اک ابر کا ٹکڑا لرزتا ہے
تو بجلی اس کی بانہوں سے 
تڑپ کر یوں نکلتی ہے
کہ جیسے اس کو میرے دل پہ گرنا تھا
جو گرنا تھا تو گر جائے
ابھی اشکوں کے کچھ موتی درخشاں ہیں
سو، وہ بھی جان لے!
دُر دانہ ہائے دل فگاراں کی
چمک کے سامنے برقِ تپاں جیسے 
دھواں ہے اور کچھ بھی تو نہیں ہے!
دھواں بھی کیا!!
ہوا جب تیز چلتی ہے
تو اس کی کچھ خبر ملتی نہیں 
وہ کیا ہوا؟ آیا کہاں سے تھا؟
مگر محسوس ہوتا ہے کئی دن سے
نظر کے سامنے اک دھند کی چادر تنی ہے
حبس جیسی کیفیت میں
آہ کے جھکڑ سے چلتے ہیں
ترشح ہونے لگتا ہے
میں آنکھیں موند لیتا ہوں

۔۶۔دسمبر ۲۰۱۵ء

نظم: صدا کر چلے ہم

صدا کر چلے ہم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رفیقوں سے ناراض کیسے رہوں گا
رہوں گا بھی تو کیا کسی سے کہوں گا

مری عمر بھر سے یہ عادت بنی ہے
جہاں بھی کوئی بزمِ یاراں سجی ہے

کبھی میں نے خود کو ابھارا نہیں ہے
ابھاروں بھی کیا اس کا یارا نہیں ہے

مرے دوست گرچہ مکرم ہیں مجھ کو
اصول اور ضوابط مقدم ہیں مجھ کو

رعایت رعایت ہے، بنیاد کب ہے
اصولوں سے بڑھ کر نہیں ہے کوئی شے

اصولوں سے کوئی جو منہ موڑتا ہے
نہ جانے وہ کتنوں کے دل توڑتا ہے

رہی بات ’’میں یہ ہوں‘‘، بے کار ہے یہ
رگِ زیست کے حق میں تلوار ہے یہ

زباں تو زبان ہے کوئی جیسے بولے
کوئی جس طرح اپنے بولے کو تولے

جو وُوں بولنا ہے تو چُپکے بھلے ہم
فقیرانہ آئے صدا کر چلے ”ہم“۔

۔۱۸ ۔ فروری ۲۰۱۳ء

نظم: ایک فریب خوردہ کے نام




ایک فریب خوردہ کے نام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اے کہ زمیں کے ثقل، تو ضبط میں دانہء سپند
مثلِ حمیر در نفیر، آپ سے تو نکل گیا

سُن، کہ مرا شگافِ صدر تجھ کو بتا رہا ہے کچھ
ہے ابھی ارتعاش میں، برزخِ وقت کی صدا

موجہء نورِ چرخ سیر کیسے تجھے سجھائی دے
سرمہء دانشِ فرنگ تیری نظر کو کھا گیا

۔۲۰۔اپریل ۲۰۱۰ء