غزل
بڑی باریک نظر رکھتے ہیں اچھے پاگل
پاگلو! بات کی تہہ کو نہیں پہنچے؟ پاگل!۔
اپنے اطوار سے قطعاً نہیں لگتے پاگل
ہم نے دیکھے ہیں ترے شہر میں ایسے پاگل
کبھی تو اپنے ہی افکار سے خوف آتا ہے
کبھی ہم خود کو سمجھ لیتے ہیں جیسے پاگل
زندگی خواب ہے گر، خواب میں سونا کیا ہے
خواب در خواب کی تعبیر سجھائے پاگل
جس کو سوچے تو خرد خود ہی پریشاں ہو جائے
اُس کے دیوانے کو ہم تو نہیں کہتے پاگل
چپ کرو یار، مجھے ڈر ہے تمہاری باتیں
اور لہجہ نہ کسی اور کو کر دے پاگل
شہر کا شہر سمجھتا ہے تجھی کو جھوٹا
اتنا سچ بول گیا ہے ارے پگلے! پاگل!۔
کیا عجب کوئی سزاوارِ وفا بھی نہ رہے
آج کے دور میں اس طور جو بولے، پاگل
۔ ۳؍ جنوری ۲۰۰۱ء
No comments:
Post a Comment