Friday, March 15, 2019

نظم: بازگشت

 بازگشت



وہ اک مردِ قلندر برہمن زادہ
مسلماں کو مسلماں کر گیا
دے کر عصائے فکر و عرفانِ حمیت
عصائے فکر و عرفاں
وہ سرافیلِ زماں کی پھونک تھی
وہ جس کی ضربوں نے
تنِ مردہ میں جاں سی ڈال دی
چنگاریاں بھر دیں پھر اِس مٹی کی ڈھیری میں
کہ سُن لو!۔
کہ سُن لو!۔
ہے تمہارے ہاتھ میں، بازو میں وہ قوت
کہ جو تقدیر ہے سارے زمانے کی
اگر تم توڑ پھینکو جال خود اپنی غلامی کا
نکل کر حلقۂ شام و سحر سے
جاوداں ہونا ہے گر تم کو
تو پھر خود کو بدل ڈالو!۔
ستاروں سے بھی آگے جس نے رخشِ فکر دوڑایا
خبر افلاک کی لا کر
ستارے بھر دئے تاریک سوچوں میں
کچھ ایسی روشنی پھیلی
کہ آزادی کے گردوں کی طرف دوڑیں
کئی سوچیں
کئی روحیں بدن کی قید سے آزاد ہو کر
آسماں کی سمت چل نکلیں
حریمِ ذات میں اک شور سا ابھرا
کہ یہ گستاخ بندہ
وقت سے پہلے قیامت کر نہ دے برپا

قیامت تو بپا ہے آج بھی دھرتی کے سینے پر
یہ کابل اور غزنی، وادیٔ کشمیر، افریقہ، 
بسنیا اور فلسطیں، شہر اقصیٰ میرا سینہ
جس سے اٹھا دہکتا لاوا
کہ میرے دست و بازو جیسے جامد اور معطل ہوتے جاتے ہیں
قیامت گر نہیں برپا کہیں تو
وہ  جگہ ہے میرا دل کہ مر گیا ہے
 اور لہو کی اپنی حدت اپنی حرکت چھن گئی ہے
اور سوچیں برف سے ٹھنڈی

کوئی ضربِ کلیمی کی صدائے باز گشت
اور کوئی نغمۂ درائے کارواں
جبریل کی کوئی نوا
اب کے سنائے کوئی تو کیسے
ابھرتی صبح کا پیغام لائے کوئی تو کیسے
کہ وہ مردِ قلندرسو گیا دریا کے ساحل پر
جہاں موجیں کناروں سے ابھی دست و گریباں ہیں
مگر رستہ نہیں پاتیں
کہ تعزیروں میں جکڑا ہے جنوں
اور عقل حاکم ہے
کہ وہ مردِ قلندر برہمن زادہ
کسی تازہ بدن کو ڈھونڈتا ہو گا!



۔  ۳۰؍ اکتوبر ۱۹۸۵ء

No comments:

Post a Comment