Friday, March 15, 2019

غزل: وہ بھی کیسی جفائیں کرتا ہے


غزل

وہ بھی کیسی جفائیں کرتا ہے
ہم پہ قرباں ادائیں کرتا ہے

کھینچے پھرتا ہے نیم جاں تن کو
دل بھی کسی جفائیں کرتا ہے

آدمیت کا دم گھٹے جب بھی
کون جاری ہوائیں کرتا ہے

اس کی رحمت کا آسرا لے کر
آدمی سو خطائیں کرتا ہے

رات بھر لوگ جاگتے بھی ہیں
شہر بھی سائیں سائیں کرتا ہے

صبح دم روز ایک فرزانہ
جاگو، جاگو! صدائیں کرتا ہے



۔  ۲۸؍ ستمبر ۱۹۸۵ء

No comments:

Post a Comment