غزل
راستوں کو آزمانا چاہئے
حوصلوں کو آزمانا چاہئے
۔”آ رہی ہے چاہِ یوسف سے صدا“۔
بھائیوں کو آزمانا چاہئے
چند گھاؤ اور بڑھ جائیں تو کیا!
بیڑیوں کو آزمانا چاہئے
شہر پر پھر چھا رہی ہے تیرگی
جگنوؤں کو آزمانا چاہئے
بالارادہ بھول کر رستہ کبھی
رہبروں کو آزمانا چاہئے
تم کو آسیؔ جی اب اپنی سوچ کے
برزخوں کو آزمانا چاہئے
۔ ۲۲؍ دسمبر ۱۹۸۵ء
No comments:
Post a Comment