غزل
شعلہء جاں کو کچھ ایسے بھی ہوا دیتے ہیں دوست
اپنی آہیں میرے اشکوں میں ملا دیتے ہیں دوست
اعتماد اپنے لکھے پر کچھ مجھے یوں بھی ہوا
پڑھتے پڑھتے بھول جاتا ہوں، بتا دیتے ہیں دوست
چہرہ خوانی کا ہنر کتنا اذیت ناک ہے
برہمی ماتھے پہ ہوتی ہے دعا دیتے ہیں دوست
محوِ حیرت ہوں کہ مجھ سے کیا کچھ ایسا ہو گیا
طعنہ و دشنام کیا کیا برملا دیتے ہیں دوست
تم بھلے کچھ بھی کہو، آسیؔ مگر اک بات ہے
آدمی کو زندگی کرنا سکھا دیتے ہیں دوست
۔ ۲۸؍ نومبر ۲۰۱۴ء
No comments:
Post a Comment