Friday, March 15, 2019

غزل: ہمیں اپنی خبر باقی نہیں ہے

غزل

ہمیں اپنی خبر باقی نہیں ہے
کسی کے تن پہ سر باقی نہیں ہے

کہانی کیا سناؤں آدمی کی
وہ توقیرِ بشر باقی نہیں ہے

در و دیوار بھی ہیں، لوگ بھی ہیں
بھری بستی میں گھر باقی نہیں ہے

چلو سوچوں کے جگنو پالتے ہیں
کہ امیدِ سحر باقی نہیں ہے

خبر لو ساکنانِ رہ گزر کی
کہیں گردِ سفر باقی نہیں ہے

وہی انداز ہیں فطرت کے لیکن
کوئی اہلِ نظر باقی نہیں ہے

خدا کی رحمتیں تو منتظر ہیں
دعاؤں میں اثر باقی نہیں ہے


۔  ۱۷؍ اگست ۱۹۸۷ء

No comments:

Post a Comment