غزل
ہماری یاد بھی آئی تو ہو گی
پھر آنکھوں میں نمی چھائی تو ہو گی
مرا نام آیا ہو گا جب زباں پر
تری آواز بھرّائی تو ہو گی
سرِ رَہ دیکھ کر چھینٹے لہو کے
ہماری یاد بھی آئی تو ہو گی
وہ ملتے ہی نہیں، لیکن یقیناً
وہاں اپنی پذیرائی تو ہو گی
زمانہ ہم کو آخر جان لے گا
نہ ہو گا نام، رسوائی تو ہوگی
میں اپنے دوستوں کو جانتا ہوں
انہوں نے آگ بھڑکائی تو ہو گی
محبت کا ترانہ کوئی چھیڑو
کسی کے پاس شہنائی تو ہو گی
کوئی صحرا سے آسیؔ کو بلا لو
حرارت سے شناسائی تو ہو گی
۔ ۱۸؍ اکتوبر ۱۹۸۵ء
No comments:
Post a Comment