غزل
ابھی تو ہاریوں کی بیویاں بِکتی ہیں قرضوں میں
ابھی تک بیٹیوں کی عزتیں بٹتی ہیں ٹکڑوں میں
چلو یارو بیابانوں میں کنجِ عافیت ڈھونڈیں
درندے دندناتے پھر رہے ہیں سارے شہروں میں
زمانے بھر میں اس جیسا تہی داماں کوئی ہو گا؟
کہ جس نے بیچ دی اپنی حمیت چند سکوں میں
ابھی ہے درد کی دولت سے مالا مال دل اپنا
ہزاروں تیر ہیں باقی رفیقوں کی کمانوں میں
بڑا محتاط رَہ کر قصہء ایام لکھتا ہوں
نہ تیرا ذکر آ جائے کہیں میرے فسانوں میں
لب و عارض، وصال و ہجر کی شیرینیاں عنقا
زمانے بھر کی تلخی بھر گئی ہے میرے لفظوں میں
۔ ۷؍ جولائی ۱۹۸۵ء
No comments:
Post a Comment