Thursday, March 14, 2019

غزل: وہ مجھ سے کچھ تو فرماتا

غزل

بات بنانے کے سَو ڈھب ہیں
وہ مجھ سے کچھ تو فرماتا

بات سرے تو پہنچی ہوتی
چاہے ناطہ ٹوٹ ہی جاتا

اپنے غم کی دھیمی لے میں
ہے وہ گیت خوشی کے گاتا

میرا اُس کا غم سانجھا تھا
میں اُس کو کیسے بہلاتا

اُس کی بڑی نوازش ہے، وہ
مل جاتا ہے آتا جاتا

باتوں باتوں میں ہے آسیؔ
بڑی بڑی باتیں کہہ جاتا

۔ ۲۷؍ مئی ۱۹۸۵ء

No comments:

Post a Comment