Friday, March 15, 2019

غزل: آنا تو انہیں تھا، پہ نہیں آئے تو کیا ہے

غزل


آنا تو انہیں تھا، پہ نہیں آئے تو کیا ہے
اشکوں نے بھگوئے بھی ہیں کچھ سائے تو کیا ہے

ان سے بھی محبت کا تو انکار نہ ہو گا
اک بات اگر لب پہ نہیں لائے تو کیا ہے

غمزے کو روا ہے کہ ہو اغماض پہ ناخوش
فرمائے تو کیا ہے جو نہ فرمائے تو کیا ہے

کم کوش! تجھے اس سے سروکار؟ کہ خود کو
تاریخ جو سو بار بھی دہرائے تو کیا ہے

جو اونچی ہواؤں میں اڑے گا، وہ گرے گا
اک فرش نشیں گر بھی اگر جائے تو کیا ہے



۔  ۱۰؍ مئی ۲۰۱۴ء

No comments:

Post a Comment