Friday, March 15, 2019

غزل: کیسا ماحول ساز گار ہوا

غزل

کیسا ماحول ساز گار ہوا
دل زدوں میں مرا شمار ہوا

یار محوِ شمارِ رنج و طرب
عشق بھی جیسے کار و بار ہوا

آرزو قبر میں اتار آئے
غم مگر جان پر سوار ہوا

کرب دل میں چھپا لیا سارا
دوستوں پر مرے جو بار ہوا

بیڑیاں ذات کی کبھی ٹوٹیں؟
آپ سے کب کوئی فرار ہوا

لفظ تو تیز دھار تھے، سو تھے
اس کا لہجہ بھی آب دار ہوا

آگہی آگ ہی تو ہوتی ہے
کوئی کندن کوئی غبار ہوا


۔  ۱۳؍ اگست ۲۰۱۴ء

No comments:

Post a Comment